Site icon PK NEWS

ضلع قصور: کمسن بچے چاند کے خلاف مقدمہ درج

کمسن بچے چاند کے خلاف مقدمہ

ضلع قصور سرکل چونیاں تھانہ الہٰ آباد کمسن بچے چاند کے خلاف مقدمہ درج کیوں ہوا؟؟؟کیا کمسن چاند نے واقعی فراڈ کیا تھا؟؟؟کیا بچے کا نام مدعی مقدمہ نے جان بوجھ کر دیا یا اس بچے کا نام مقدمہ میں آنے میں کسی تیسرے شخص یا بچے کے والد رحمت کی غلطی ہے؟؟

یقینا آپ ان تمام سوالات کے جوابات جاننا چاہتے ہیں تو اب آپ کو حقیقت سے آگاہ کرتے ہیں۔ مقدمہ کے مرکزی ملزم جمیل وغیرہ آپس میں ساز باز ہو کر رفیق نامی سادہ لوح مزدور کا مکان ہتھیانے کا پلان کرتے ہیں ۔اور ملزمان جمیل وغیرہ 4/5 کس رفیق کو یقین دلاتے ہیں کہ جمیل کے چیک بطور گارنٹی محمد حسین ڈوگر دیو کھاراکے پاس پڑے ہیں۔ آپ جمیل کو انتقال کے بیان دے دو ہم تمیں رقم ادا کر دینگے۔ اس طرح ملزمان نے سوچی سمجھی پلاننگ کے تحت بنک آف پنجاب سے اسٹام پیپر رفیق کے نام سے نکلوایا ۔اور اسٹام پیپر پر رفیق کی جانب سے بحق محمد جمیل پندرہ لاکھ روپے میں بیعانہ تحریر کروا لیا

محمد رفیق سے پٹواری کے روبرو انتقال کے بیان بھی لے لیئے اور رفیق کو پندرہ لاکھ روپے ادا نہ کیئے اور فراڈ کر لیا اس فراڈ کا تمام اہل محلہ کو اور علاقہ کے لوگوں کو علم ہو گیا تھا۔ اب آتے ہیں بچے والے معاملہ کیطرف کہ بچے کا نام مقدمہ میں کیوں؟؟ آیا۔ اب جمیل اور اس کے فراڈ کرنے والے ساتھی اپنا اپنا حصہ بانٹنے یا حاصل کرنے کیلئے مکان فروخت کرنے کی کوشش تیز کر دیتے ہیں جن کو ایک بندہ ملتا ہے جو کہ پندرہ لاکھ روپے کا مکان آٹھ لاکھ روپے میں لینے کیلئے تیار ہو جاتا ہے اس خریدار کے کیساتھ ایک وکیل اور ایک دیہاڑی دار شامل ہو جاتے ہیں وکیل صاحب اس بندے کو مشورہ دیتے ہیں کہ مکان کی قیمت پندرہ لاکھ روپے ہے اور ہم آپ کو آٹھ لاکھ روپے میں لیکر دے رہے ہیں آپ مکان اپنے نام کروانے کی بجائے اپنے 9 ماہ کے بچے چاند کے نام کروا دو تاکہ اگر اس فراڈ کا مقدمہ درج ہو تو بچے کی وجہ سے ہمیں ریلیف مل جائیگا

جمیل سے مکان کا انتقال دیدہ دانستہ طور پر کمسن بچے چاند کے نام کروا دیا جاتا ہے۔اسی دوران مدعی محمد رفیق عدالت سے سٹے حاصل کر لیتا ہے اور پٹوار خانے سٹے درج کروانے جاتا ہے تو اسے پتہ چلتا ہے کہ مکان کا انتقال چاند ولد رحمت کے نام منتقل ہو گیا ہے مدعی مقدمہ محمد رفیق کو اس بات کا قطعی علم نہ تھا کہ چاند کمسن بچہ ہے یا 40 سالہ بندہ۔ سو مدعی نے اس بات پر درخواست میں چاند کا نام لکھا کہ اس نے بدنیتی سے پندرہ لاکھ روپے کا مکان آٹھ لاکھ روپے میں خرید کیا ہے۔

اب آپ کو حق1یقت کا علم ہو گیا ہوگا کہ چاند کا نام FIR میں آنے کا ذمہ دار چاند کا والد رحمت ہے کیونکہ اس نے بدنیتی سے پندرہ لاکھ روپے کا مکان آٹھ لاکھ روپے میں خریدا اور وکیل اور دیہاڑی دار کے مشورے سے کمسن بچے چاند کے نام منتقل کروایا حالانکہ چاند کا والد رحمت عمر میں ابھی جوان ہے۔اسے کیا ضرورت پڑی تھی کہ اتنے چھوٹے بچے کے نام انتقال درج کروانے کی۔

میری آخر میں افسران اور ججوں سے اپیل ہے کہ محمد رفیق مزدور کی ساری زندگی کی کمائی تین مرلہ مکان اسے واپس دلوانے میں مدد کریں اور اس مزدور کیساتھ انصاف کریں۔کیونکہ بچے چاند کا نام تو ایک بیان دینے سے مقدمہ سے نکل جائیگا۔لیکن اس غریب رفیق کا 3 مرلہ مکان ساری زندگی کی خون پسینے کی کمائی اور جمع پونجی ہے

Exit mobile version